برلن ایک طرف اسرائیل کا سب سے بڑا حامی بننے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری طرف خود کو انسانی حقوق کا محافظ اور مشرقِ وسطیٰ میں غیرجانبدار ثالث کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم غزہ کی جنگ کے دوران تل ابیب کو مسلسل اسلحہ فراہم کرنے سے جرمنی کی یہ تضاد بھری پالیسی پہلے سے زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔